سعودی عرب میں ہیروئن اسمگلنگ کے جرم میں پاکستانی شہری کو سزائے موت — مکہ مکرمہ میں عمل درآمد

نیوز ڈیسک
ریاض / مکہ مکرمہ

سعودی عرب میں ہیروئن اسمگلنگ کے جرم میں پاکستانی شہری کو سزائے موت — مکہ مکرمہ میں عمل درآمد

سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں ایک اور پاکستانی شہری کو سخت ترین سزا دے دی گئی۔ مکہ مکرمہ میں بختیار زیب نامی شخص کو ہیروئن اسمگلنگ کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی، جس پر اتوار کے روز عمل درآمد کیا گیا۔

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، پاکستانی شہری بختیار زیب کو مملکت میں ہیروئن اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش، عدالتی کارروائی اور اعلیٰ عدالتی توثیق کے بعد ملزم کو سزائے موت سنائی گئی، جسے سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

حکام کے مطابق مکہ مکرمہ میں اتوار کے دن مجرم کو سزا پر عمل درآمد کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ یہ سزائیں سعودی عرب میں منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا حصہ ہیں، اور ایسے عناصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی جو معاشرے کو زہر آلود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
منشیات کے جرم میں پاکستانی شہریوں کو بیرونِ ملک سزائیں ملنا ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ بختیار زیب کی سزائے موت اس تلخ حقیقت کو دہرا رہی ہے کہ جب تک ہمارے نظامِ سماجی اور اخلاقی تربیت میں بیداری نہ آئے، ایسے سانحات دہراتے رہیں گے۔ ہر ایسا واقعہ صرف فرد کا نہیں، پوری قوم کی ساکھ پر دھبہ ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی سطح پر نہ صرف روک تھام کی مؤثر حکمتِ عملی بنائی جائے بلکہ بیرونِ ملک مقیم شہریوں کو قانونی شعور بھی فراہم کیا جائے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/004/280725

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں