سائرن بجتے ہی اسرائیلی اینکرز نشریات چھوڑ کر بھاگ گئے، ایرانی اینکرز کی بہادری کا موازنہ

: یروشلم ڈیسک
: تل ابیب، اسرائیل

سائرن بجتے ہی اسرائیلی اینکرز نشریات چھوڑ کر بھاگ گئے، ایرانی اینکرز کی بہادری کا موازنہ

ایران کے حالیہ میزائل حملوں کے خوف نے اسرائیلی میڈیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، یہاں تک کہ براہ راست نشریات کے دوران بھی اسرائیلی اینکرز سائرن کی آواز سنتے ہی نشریات ادھوری چھوڑ کر اسٹوڈیو سے فرار ہو گئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں ایک معروف اسرائیلی نیوز چینل کے اسٹوڈیو میں لائیو پروگرام جاری تھا، جب اچانک میزائل حملے کے خدشے پر وارننگ سائرن بجنے لگا۔ اس موقع پر اینکر اور مہمان دونوں گھبرا کر سیٹ چھوڑ کر بھاگ گئے، اور کیمرہ چند لمحے تک خالی اسٹوڈیو دکھاتا رہا۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، اور اس کا موازنہ ایران کی اینکر سحر امامی سے کیا جا رہا ہے جنہوں نے چند روز قبل اسرائیلی حملے کے باوجود ایران کے سرکاری ٹی وی پر نہ صرف اپنے ہوش و حواس برقرار رکھے، بلکہ حملے کے بعد چند منٹوں میں اسٹوڈیو واپس آ کر دوبارہ نشریات کا آغاز کیا۔

یاد رہے کہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کو اسرائیل کی جانب سے براہ راست نشانہ بنایا گیا تھا، اور حملے کے وقت اسٹوڈیو کیمرہ نے تباہی کی جھلک محفوظ کر لی تھی۔ تاہم ایرانی میڈیا ٹیم نے جس جرات و پیشہ ورانہ وقار سے نشریات بحال کیں، وہ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی صحافتی حلقوں میں تحسین کا باعث بن رہی ہے۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
ایک طرف خوف، افراتفری اور کیمروں کے سامنے فرار — اور دوسری جانب بہادری، وقار اور ذمہ داری کا بھرپور اظہار۔ یہ صرف میڈیا کا موازنہ نہیں، بلکہ قومی حوصلے اور پیشہ ورانہ مزاج کا فرق بھی ہے۔ تل ابیب کے اسٹوڈیو میں افراتفری کا منظر اسرائیل کی اندرونی کمزوری اور نفسیاتی دباؤ کو آشکار کرتا ہے، جبکہ سحر امامی کی واپسی ایرانی میڈیا کی مزاحمتی علامت بن چکی ہے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔

VOC/005/200625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں