زرداری کی تھالی سے کھانے والے فضل الرحمن کی اب نواز شریف سے جپھیاں ہیں, خورشید شاہ

ن لیگ نے سپریم کورٹ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تو دفاع کریں گے ، نوازشریف ایک دو دن میں استعفیٰ دیدیں
الزام تراشیاں اس لئے ہو رہی ہیں کہ ن لیگی یہ سمجھتے ہیں ہمارا کیس کمزور ہے ، اپوزیشن لیڈر کی پریس کانفرنس سکھر (نمائندہ دنیا، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے پاناما کیس کا فائنل فیصلہ ایک ہفتے میں آنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے پاس ایک دو دن ہیں وہ استعفیٰ دے دیں،حکومت کو سپریم کورٹ کا حکم ہر صورت ماننا پڑے گا ، ہم قبل ازوقت انتخابات کے حامی نہیں، حکومت مخالف فیصلے سے سی پیک منصوبے پر اثر نہیں پڑے گا ، حکومت پاناما کیس کے فیصلے پر عدالت سے زیادہ وقت لینے کی کوشش کرے گی، اگر ن لیگ نے سپریم کورٹ پر اثراندازہونے کی کوشش کی تو پی پی پی عدالت عظمیٰ کا دفاع کرے گی ۔ اتوار کو سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہنگامے کی ضرورت ہے ، فیصلہ کورٹ میں ہے ، عدالت جو فیصلہ کرے گی سب کو ماننا پڑے گا ، جو عدالت کے فیصلے کو نہیں مانے گا اسے توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لئے نہ کوئی جھگڑا ہو سکتا ہے اور نہ کوئی لڑ سکتا ہے ۔ جے آئی ٹی نے 60 روز محنت سے کام کیا، جے آئی ٹی نے ایماندارانہ اور مخلصانہ طریقے سے تحقیقات کی ہیں، الزام تراشیاں اس لئے ہو رہی ہیں کہ (ن) لیگ والے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کیس کمزور ہے ، اس میں جان نہیں ہے ، اس لئے اسے متنازع بنا رہے ہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ فیصلہ 8 سے 10 روز میں آسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری ایک ہی تھالی میں کھا چکے ہیں ، مجھے یقین نہیں آتا کہ مولانا ، آصف زرداری کیلئے یہ بات کر سکتے ہیں ، آصف زرداری مولانا کی عزت کرتے ہیں ، آپ نے دیکھا کہ انہوں نے مولانا کی بات کا جواب نہیں دیا ، آصف زرداری بڑے دل گردے کے شخص ہیں ، پہلے بھی جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچانے کی کوشش کی ، آج بھی کر رہے ہیں ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پہلے بھی مسئلہ صرف تیس دن میں نمٹ سکتا تھا جبکہ جے آئی ٹی کو تیس دن سے زیادہ دئیے گئے ، طارق شفیع کا حلف نامہ غلط ثابت ہو گیا ، منی ٹریل سامنے نہیں آئی ، سنتے ہیں نواز شریف آزاد خارجہ پالیسی جانتے ہیں بہت لائق فائق ہیں، ہم بھی نیا وزیر اعظم لائے تھے نوازشریف کوشش کر کے نیا وزیر اعظم لائیں ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں