رجب بٹ اور قریبی دوستوں کی نازیبا ویڈیوز لیک، سوشل میڈیا پر تہلکہ
: نیوز ڈیسک
: پاکستان
رجب بٹ اور قریبی دوستوں کی نازیبا ویڈیوز لیک، سوشل میڈیا پر تہلکہ
پاکستان کے معروف ٹک ٹاکر رجب بٹ ایک بار پھر تنازعے کی زد میں آ گئے ہیں۔ اس بار معاملہ ان کے قریبی ساتھیوں کی نازیبا ویڈیوز کا ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر کہرام برپا کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رجب بٹ کے قریبی دوستوں حیدر شاہ، مان ڈوگر اور شہزی کی ایسی ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جنہیں شائستگی کے دائرے میں رکھنا ممکن نہیں۔ یہ ویڈیوز نہ صرف مکمل برہنہ حالت میں بنائی گئیں بلکہ ان کا مواد بھی انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔ صارفین اس قدر برہم ہیں کہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر یہ افراد خود کو مذہبی ظاہر کرتے ہیں تو پھر ایسی حرکات کیونکر روا رکھیں؟
رجب بٹ اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کا ڈیٹا ہیک ہوا ہے اور کسی نے دانستہ طور پر ان کے موبائل فون سے یہ نجی مواد نکال کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہے۔ تاہم عوامی ردِعمل اس مؤقف کو قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ صارفین کا مؤقف ہے کہ ویڈیوز بنائی ہی کیوں گئیں؟ اگر نجی تھیں تو پھر لیک کیسے ہوئیں؟
یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایک ویڈیو کال کے دوران حیدر شاہ جس شخص کو اپنا جسم دکھا رہے ہیں، وہ مبینہ طور پر خود رجب بٹ ہیں۔ اس دعوے نے معاملے کو مزید حساس اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دوسری طرف رجب بٹ کے ٹک ٹاکر زارا ملک سے تعلقات پر بھی عوام کی نظریں مرکوز ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی افواہوں کے مطابق رجب بٹ دبئی میں زارا ملک کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ ان کی ایک ساتھ قوالی نائٹ میں موجودگی اور ایک جیسے لباس پہننے کی تصاویر نے شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ رجب بٹ اپنی حاملہ بیوی ایمان سے بے وفائی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان ویڈیوز اور بیانات نے رجب بٹ کی شہرت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔
وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ معاملہ صرف نجی نوعیت کا نہیں بلکہ ایک معاشرتی المیہ بھی ہے، جہاں سستی شہرت کے لیے اخلاقی حدود کو پامال کیا جا رہا ہے۔ نئی نسل کے سوشل میڈیا اسٹارز اگر ایسی حرکات کو معمول بنا لیں گے تو معاشرہ کس سمت جائے گا؟ یہ سوال ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/008/280725






