خفیہ محاذ کی خاموش جنگ: ایران کے سیکیورٹی حلقوں میں دراڑ ڈالنے والی مغربی جاسوسہ کی داستان
خفیہ محاذ کی خاموش جنگ: ایران کے سیکیورٹی حلقوں میں دراڑ ڈالنے والی مغربی جاسوسہ کی داستان
رپورٹ: بشیر باجوہ
ڈیسک: انٹرنیشنل انٹیلیجنس
تہران / پیرس
ایران کی داخلی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس نظام میں ایک سنجیدہ دراڑ اُس وقت سامنے آئی، جب ایک فرانسیسی نژاد مسلمان خاتون، کیتھرین پیریز شکدام، کے متعلق یہ انکشاف ہوا کہ وہ ایک بین الاقوامی جاسوس مشن کا حصہ تھیں۔
کیتھرین نے ایران میں بطور دانشور، اسلامی اسکالر اور صحافی اپنی پہچان بنائی۔ انہوں نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ تشیع مذہب اختیار کرتے ہوئے ایران کے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں گہری رسائی حاصل کی۔ ان کے مضامین ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی ویب سائٹ پر بھی شائع ہوتے رہے۔
ان کا اصل مقصد ایرانی اعلیٰ قیادت، پاسدارانِ انقلاب، سائنسدانوں اور جوہری پروگرام سے وابستہ افراد کی زندگیوں کے نہایت حساس پہلوؤں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ کیتھرین نے خواتین کے سماجی حلقوں، نجی محفلوں اور ذاتی ملاقاتوں کے ذریعے ایرانی فوجی، سیاسی اور انٹیلیجنس اہلکاروں کی بیویوں سے قریبی تعلقات قائم کیے۔ ان ملاقاتوں میں خواتین کی جانب سے معمول کی گفتگو میں اہم معلومات غیر دانستہ طور پر شیئر ہوتی رہیں۔
ان معلومات کو جدید ترین جاسوسی نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کیا گیا، جس کے بعد ایران کو کئی سطح پر سنگین نقصان اٹھانا پڑا — خصوصاً حساس شخصیات کی ٹارگٹ کلنگز، میزائل حملوں کے اہداف کی لوکیشنز، اور نیوکلیئر پلانٹس کی اندرونی تفصیلات جیسے معاملات میں۔
جیسے ہی ایران کو شک ہوا، کیتھرین پیریز فوراً ملک چھوڑ کر فرار ہو گئیں۔ ایران کے سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اپنا مشن مکمل کر چکی تھیں۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کارستانی نہیں، بلکہ ریاستی سطح پر سیکیورٹی کے ایک بڑے خلا کی نشان دہی کرتا ہے۔ آج کی جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ تعلقات، ذہن سازی اور نفسیاتی ہتھکنڈوں سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ خواتین کے حلقے، خاندانی گفتگو اور بظاہر معصوم میل جول — یہ سب جاسوسی کے جدید طریقہ کار کا حصہ بن چکے ہیں۔
ایرانی ریاست اب جس چیلنج سے نبرد آزما ہے، وہ صرف بیرونی خطرہ نہیں بلکہ اندرونی سیکیورٹی نظام کی ازسرِ نو تعمیر کا مطالبہ بھی ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ رپورٹ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور تحقیقاتی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ کسی بھی شخصیت یا ریاست کی توہین ہرگز مطلوب نہیں۔ ہمارا مقصد صرف صحافتی ذمے داری کی ادائیگی ہے۔
VOC/004/190625






