حماس قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ قبول کرے: ٹرمپ کی ’آخری وارننگ‘
انٹرنیشنل، نیوز ڈیسک
میری لینڈ، امریکہ
حماس قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ قبول کرے: ٹرمپ کی ’آخری وارننگ‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر حماس کو ’آخری وارننگ‘ دے دی ہے۔ انہوں نے اتوار کو میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر ایئر فورس ون سے اترنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “اسرائیلیوں نے میری شرائط کو تسلیم کر لیا ہے، اب یہ حماس کے لیے بھی قبول کرنے کا وقت ہے، ورنہ نتائج کے لیے تیار رہے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے فوری بعد حماس نے اعلان کیا کہ وہ “امریکی تجاویز پر بات کرنے اور فوری مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔” تاہم حماس نے شرط رکھی ہے کہ کسی بھی معاہدے میں غزہ پر بمباری اور اسرائیلی قبضے کے فیصلے کو ختم کرنا ضروری ہوگا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے گزشتہ ہفتے حماس کو جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق ایک نئی تجویز پیش کی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے اس تجویز کی تفصیلات جاری نہیں کیں لیکن ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ “بہت جلد دنیا اس کے بارے میں سن لے گی۔”
اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ “ہم نے کچھ اچھی بات چیت کی ہے اور امید ہے کہ غزہ پر جلد کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔”
یاد رہے کہ مارچ کے اوائل میں بھی ٹرمپ نے حماس کو قیدیوں کی فوری رہائی کا الٹی میٹم دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس سات اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے 251 افراد میں سے 47 اب بھی موجود ہیں جن میں سے 25 ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی حملے
ٹرمپ کے انتباہ اور حماس کے ردعمل کے بعد غزہ شہر پر اسرائیلی فوج نے اتوار کو ایک اور رہائشی ٹاور پر بمباری کی، جو چند دنوں میں تیسرا بڑا حملہ تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ زلزلے کی طرح محسوس ہوا، جس سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔
غزہ سول ڈیفنس کے مطابق تازہ حملوں میں کم از کم 48 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد بلند عمارتوں کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان عمارتوں کو حماس “مشاہداتی مقامات” کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ ایک لاکھ سے زائد افراد پہلے ہی غزہ شہر چھوڑ چکے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل میں 1,219 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 64,368 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔
وی او سی اردو کا تبصرہ:
ٹرمپ کا یہ بیان واضح اشارہ ہے کہ امریکہ مسئلہ فلسطین میں براہِ راست ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، لیکن زمینی حقائق اسرائیل کے جارحانہ عزائم اور فلسطینیوں کی بدترین مشکلات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے دعوے اگر حقیقی اقدامات میں نہ ڈھل سکے تو یہ “آخری وارننگ” محض سیاسی دباؤ تک محدود رہ جائے گی۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/012/090925






