حافظ سعید سمیت 38 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل
لاہور( نیوز وی او سی آن لائن ) وزارت داخلہ نے جماعت الدعوة کے امیر حافظ سعید سمیت 38 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کر دیے۔ ای سی ایل میں شامل کیے گئے تمام 38 افراد کا تعلق جماعت الدعوة اور لشکر طیبہ سے ہے۔وزارت داخلہ نے اس حوالے سے ایف آئی اے اور تمام صوبائی حکومتوں کو مراسلے جاری کر دیے، وزارت داخلہ کے مراسلوں کے ہمراہ 38 افراد کی فہرست منسلک کی گئی ہے۔ دوسری جانب وزارت داخلہ کے ترجمان نے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ سعید کے معاملے پر بھارت سے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ واضح رہے کہ 30 جنوری کو پنجاب حکومت کی جانب سے جماعت الدعوة کے امیر حافظ سعید کو نظر بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جبکہ پنجاب میں جماعت الدعو کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے لاہور کی سڑکوں پر لگے جماعت الدعو ة کے بینرز اتار دیے گئے تھے۔ ترجمان وزارت داخلہ نے حافظ سعید سے متعلق بھارتی دفترخارجہ کے بیان پر ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان نے جماعت الدعوة سے متعلق عالمی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، پاکستان کو بھارت کے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں’۔ واضح رہے کہ پاکستان میں حافظ سعید کی نظر بندی کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان سے ‘ڈو مور’ کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف مزید ‘معتبر’ اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اپنے بیان میں ترجمان وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آزاد اور خودمختار عدلیہ موجود ہے، بغیر ثبوت الزامات خطہ میں امن کیلئے مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘بھارت حافظ سعید کی سیاسی سرگرمیوں کو پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ترجمان نے وضاحت کی کہ ‘ حکومت پاکستان نے دسمبر 2008 کی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار داد 1267 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے یہ اقدامات اٹھائے ہیں’۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس قرار داد کے تحت ہتھیاروں کی فروخت اور سفری پابندیوں سمیت اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات سابقہ حکومتیں بعض وجوہات کی بنا پر نہیں کرسکی تھیں۔ ترجمان وزارت داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں کی عدلیہ آزاد ہے، اگر بھارت اپنے عائد کیے گئے الزامات کے حوالے سے واقعی سنجیدہ ہے تو حافظ سعید کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے لائے جسے پاکستان یا دنیا کی کسی بھی عدالت میں تسلیم کیا جاسکے۔






