جب صحافت فاقہ کشی کا شکار ہو جائے
نیوز ڈیسک
غزہ
جب صحافت فاقہ کشی کا شکار ہو جائے
غزہ میں صحافت اب صرف جان کا خطرہ نہیں، بھوک اور قحط کا میدان بھی بن چکی ہے۔ بین الاقوامی خبررساں اداروں ایسوسی ایٹیڈ پریس، اے ایف پی، رائٹرز اور بی بی سی نے اپنے مشترکہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کے صحافی نہ صرف گولہ بارود کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ اب خوراک کے شدید بحران سے بھی دوچار ہیں۔
ان اداروں نے اسرائیل سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ داخلے اور اخراج کی اجازت دی جائے اور مقامی آبادی سمیت صحافیوں کے لیے خوراک اور طبی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
اس وقت غزہ مکمل طور پر بین الاقوامی صحافیوں کے لیے بند ہے، اور دنیا کی نظریں اُن فلسطینی صحافیوں پر ٹکی ہیں، جو ہر روز جان ہتھیلی پر رکھ کر خبریں، تصاویر اور ویڈیوز عالمی میڈیا تک پہنچا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 200 سے زائد صحافی غزہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں، جب کہ باقی شدید غذائی قلت، ذہنی دباؤ اور پیشہ ورانہ خطرات کے بوجھ تلے کام کر رہے ہیں۔
وی او سی اردو کا تبصرہ:
جب دنیا کے بڑے میڈیا ادارے خود اپنے نمائندوں کے لیے خوراک کی اپیل کرنے پر مجبور ہوں، تو یہ صرف ایک جنگی المیہ نہیں، انسانیت کی اجتماعی ناکامی ہے۔ غزہ کے صحافی نہ صرف خبر پہنچانے والے ہیں، بلکہ وہ خود خبر بن چکے ہیں — سچائی، قربانی اور استقامت کی زندہ علامت۔ عالمی ضمیر کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا صرف خاموش رہنے سے کوئی بری الذمہ ہو سکتا ہے؟
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/001/250725






