“بے نظیر بھٹو کے دور میں قائم پیپلز پارٹی کا منصوبہ STN، آج 36 ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور جبری بے دخلی کے بحران کا شکار”

نیشنل، نیوز ڈیسک
اسلام آباد، پاکستان

“بے نظیر بھٹو کے دور میں قائم پیپلز پارٹی کا منصوبہ STN، آج 36 ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور جبری بے دخلی کے بحران کا شکار”

آذربائیجان کے تعاون سے پاکستان آسان خدمت سینٹر کے قیام کے لیے دفاتر کی الاٹمنٹ اور منتقلی کے احکامات، SRBC کے ملازمین تنخواہوں اور بے روزگاری کے خدشات کا شکار

اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نے “پاکستان آسان خدمت سینٹر” کے قیام کے پہلے مرحلے میں دو اہم خطوط کے ذریعے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) اور وزارت اطلاعات و نشریات (MoIB) کے درمیان دفتری عمارات کے حوالے سے حتمی اقدامات کیے ہیں۔

پہلا خط (حوالہ نمبر: F. No. 7-19/2025-ACP، مورخہ 17 ستمبر 2025) وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کو جاری کیا گیا، جس میں سابقہ پاک PWD ہیڈکوارٹرز بلڈنگ کے بلاک-بی کو آسان خدمت سینٹر کے لیے مختص کرنے اور آذربائیجان کی اسٹیٹ ایجنسی برائے پبلک سروسز اینڈ سوشل انوویشنز (SAPSSI) کے منصوبے کے مطابق تزئین و آرائش شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔ مزید کہا گیا کہ پاک PWD کو اپنا ریکارڈ دوسری جگہ منتقل کرے اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کو یقینی بنائے۔

دوسرا خط (حوالہ نمبر: U.O No. 1(3)/2020-E-II(Gen)-Vol-III، مورخہ 19 ستمبر 2025) وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری ہوا، جس میں شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کارپوریشن (SRBC) کو ہدایت دی گئی کہ وہ H-9 اسلام آباد میں واقع اپنا دفتر فوری طور پر خالی کرے، تاکہ یہ عمارت آسان خدمت سینٹر کے لیے استعمال کی جا سکے۔ مزید ہدایت میں کہا گیا کہ SRBC اپنے دفاتر کو راولپنڈی پشاور روڈ پر واقع پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (PBC) کی عمارت میں منتقل کرے۔

تاہم، اس فیصلے نے SRBC کے ملازمین کو شدید بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملازمین کے مطابق، تقریباً تین سال سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی اور اب دفاتر خالی کروا کر دربدر کرنے کی منصوبہ بندی مکمل حکومتی پلاننگ کے تحت کی گئی ہے، جس کے نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکے ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کے مقدمات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں اور عدالت نے اس کیس میں ایک لیکوڈیٹر بھی مقرر کر رکھا ہے، اس کے باوجود انہیں زبردستی بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ملازمین کی جانب سے میڈیا اور مزدور تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور واجبات کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے، ورنہ یہ اقدام ان کے روزگار کو مزید غیر محفوظ بنا دے گا۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ اقدام ایک طرف حکومت کے ای-گورننس ماڈل کو تیز کرنے کی نشاندہی کرتا ہے مگر دوسری جانب مزدوروں کے معاشی حقوق کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ریاستی اداروں کی منتقلی اور غیر ملکی تعاون کے منصوبے اگر ملازمین کے بنیادی حقوق اور تنخواہوں کی ادائیگی کے بغیر آگے بڑھائے گئے تو یہ انتظامی شفافیت پر سوالیہ نشان چھوڑ دیں گے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔

VOC/001/220925

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں