ایڈیٹرکاانتخاب

بھارت کی ہٹ دھرمی اور سازش کے باعث اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس ملتوی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی روائتی ہٹ دھرمی اور سازشوں کے باعث جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم’’ سارک‘‘ کا پاکستان میں ہونے والاسربراہی اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے ،جس کی تصدیق پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی کردی تاہم پاکستان نے ’’سارک وزارتی کانفرنس‘‘ شیڈول کے مطابق کرانے پر غور شروع کردیا ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ بھارت کے دباؤپر نیپال اور بنگلہ دیش نے بھی سارک کانفرنس میں عدم شرکت سے متعلق آگاہ کردیا تھا۔ ’’برطانوی خبر رساں ادارے‘‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت سمیت چار ممالک کی جانب سے جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے پاکستان میں منعقد ہونے والے سربراہ اجلاس میں شرکت سے انکار کے بعد یہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔نیپال کی وزارت خارجہ کے اہلکار جھابندرہ پرساد ایرل نے بدھ کی صبح ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں بھارت ، افغانستان، بنگلہ دیش اور بھوٹان کی جانب سے سارک اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے سے مطلع کیاگیا ہے۔اس کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اس ضمن میں نیپال نے پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے کہ چار ممالک اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے اور اس صورتحال میں اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت سارک ممالک کی صدارت نیپال کے پاس ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے اہلکار کے مطابق سارک کے چارٹر کے تحت اگر کوئی رکن ملک اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتا ہے تو اس صورت میں اجلاس کا انعقاد نہیں ہو سکتا۔اجلاس کو ملتوی کرنے کے فیصلے سے پہلے نیپال کے وزیراعظم پراچندا کے خارجہ امور کے مشیر رشی راج ادھیکاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ان کی حکومت سارک ممالک سے صلاح و مشورہ کر رہی ہے۔بھارت نے سارک کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا جواز سرحد پار سے مبینہ در اندازی اور دوسرے ممالک کی اندرونی معاملات میں دخل اندازی بتایا ہے۔بھارت ، بنگلہ دیش، بھوٹان اور افغانستان کی جانب سے سارک کے اجلاس میں عدم شرکت کی وجہ سے صرف چار رکن ممالک رہ جائیں گے جن میں پاکستان، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ شامل ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button