بگرام ایئر بیس کی کہانی — ٹرمپ کی ضد اور طالبان کو نئی دھمکی
انٹرنیشنل، نیوز ڈیسک
کابل، افغانستان / امریکہ
بگرام ایئر بیس کی کہانی — ٹرمپ کی ضد اور طالبان کو نئی دھمکی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے بگرام ایئر بیس کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے طالبان کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ فوجی اڈا امریکہ کو واپس نہ دیا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ “اگر افغانستان نے بگرام بیس واپس نہ کیا تو برے نتائج سامنے آئیں گے۔”
یہ بیان امریکہ اور عالمی میڈیا میں شدید بحث کا سبب بنا۔ ماہرین نے واضح کیا کہ بگرام بیس کی اصل تعمیر سوویت یونین نے کی تھی، جبکہ امریکہ نے 2001 میں افغان خانہ جنگی کے بعد اس کو دوبارہ فعال کر کے طالبان اور القاعدہ کے خلاف اپنی کارروائیوں کا مرکز بنایا۔
بگرام ایئر بیس کی تاریخی جھلک
یہ بیس صوبہ پروان میں کابل سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ سوویت یونین نے 1950 کی دہائی میں اس کی تعمیر کی اور 1979 سے 1989 تک اپنی فوجی کارروائیوں کا مرکز بنایا۔
امریکہ نے نائن الیون کے بعد یہاں قبضہ جمایا اور دو دہائیوں تک اسے افغانستان میں اپنی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی کے طور پر استعمال کیا۔ اس بیس پر وسیع جیل کمپلیکس، امریکی فوجیوں کے لیے سہولیات اور دکانیں تک موجود تھیں۔
موجودہ تنازع اور خطرات
ٹرمپ کے حالیہ دعوے نے افغان حکام اور عالمی ماہرین کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بگرام پر دوبارہ کنٹرول کا مطلب افغانستان میں نئی امریکی مداخلت ہوگا، جس کے لیے کم از کم دس ہزار فوجی، جدید فضائی دفاعی نظام اور بھاری عسکری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
یہ بیس طالبان، داعش اور القاعدہ کے ممکنہ حملوں کے ساتھ ساتھ ایران کے میزائل خطرات کی زد میں بھی رہے گا۔
افغان ردعمل
افغان وزارتِ خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “افغانستان میں کسی بھی امریکی فوجی کی واپسی کی گنجائش نہیں ہے۔” افغان حکام کا موقف ہے کہ دونوں ممالک کو تعاون کی ضرورت ہے، مگر افغان عوام دوبارہ امریکی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے۔
ٹرمپ اس سے قبل پانامہ کینال اور گرین لینڈ پر بھی کنٹرول کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ بگرام پر ان کی ضد نے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔
وی او سی اردو کا تبصرہ:
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو بگرام ہمیشہ بڑی طاقتوں کے تصادم کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین سے امریکہ اور اب طالبان کے ہاتھوں اس بیس کی حکمرانی عالمی سیاست کے بدلتے کھیل کی علامت ہے۔ ٹرمپ کا حالیہ بیان نہ صرف افغان خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں ایک نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ اگر امریکہ نے دوبارہ قبضے کی کوشش کی تو یہ خطہ ایک بار پھر شدید جنگی کشمکش کا شکار ہو سکتا ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/002/220925






