برطانیہ کا ایف-35 بی لڑاکا طیارہ انڈین ایئرپورٹ پر ایک ہفتے سے کھڑا کیوں ہے؟

: انٹرنیشنل ڈیسک
: کیرالہ / لندن

برطانیہ کا ایف-35 بی لڑاکا طیارہ انڈین ایئرپورٹ پر ایک ہفتے سے کھڑا کیوں ہے؟

بحر ہند میں تعینات برطانوی بحریہ کے جنگی طیارے ایف-35 بی کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد سے یہ جدید ترین سٹیلتھ جیٹ انڈین ریاست کیرالہ کے ترووننت پورم ایئرپورٹ پر ایک ہفتے سے کھڑا ہے، جس پر سوشل میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شدید چہ میگوئیاں جاری ہیں۔

انڈین فضائیہ کے مطابق، 14 جون کی رات برطانیہ کے طیارہ بردار بحری جہاز ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز سے پرواز بھرنے والے اس ایف-35 بی طیارے نے ایندھن کی کمی اور خراب موسم کے باعث انڈین فضائی حدود میں ہنگامی لینڈنگ کی۔ انڈین ایئر ڈیفنس سسٹم نے طیارے کی شناخت کے بعد اسے بحفاظت لینڈنگ کی اجازت دی۔

مرمت میں تاخیر اور سوشل میڈیا پر مزاح:

ذرائع کے مطابق، لینڈنگ کے دوران طیارے کو شدید فنی نقصان پہنچا جس کی مرمت کے لیے اب برطانوی حکومت نے انڈیا میں مزید تکنیکی معاونت اور MRO (Maintenance, Repair and Overhaul) کی سہولیات مانگی ہیں۔ ایئر انڈیا کے ہینگر نمبر چار میں اس کی منتقلی پر غور جاری ہے۔ اگر مرمت ممکن نہ ہوئی تو اسے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا جائے گا۔

طیارے کے ایک ہفتے سے کھلے میدان میں کھڑے رہنے پر سوشل میڈیا پر طنز و مزاح اور میمز کا سیلاب آ گیا۔ کسی نے اسے OLX پر “فروخت” کے لیے ڈال دیا تو کسی نے تبصرہ کیا:

> “اگر یہ چین میں اترا ہوتا تو ناشتہ کرنے سے پہلے اس کی کاپی تیار ہو جاتی!”

ایک صارف نے لکھا:

> “اسے چند دن کے لیے پاکستان کے حوالے کر دیں، نقلی ورژن تیار ہو جائے گا!”

ٹیکنالوجی کی علامت، سفارتی آزمائش:

ایف-35 بی کو دنیا کا جدید ترین ففتھ جنریشن سٹیلتھ لڑاکا طیارہ سمجھا جاتا ہے، جو قلیل رن وے پر اترنے، عمودی لینڈنگ اور ہائپرسونک اسپیڈ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ امریکہ کی لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کا شاہکار ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ فروری میں امریکی صدر ٹرمپ اور انڈین وزیر اعظم کی ملاقات کے بعد ایف-35 کی ممکنہ فروخت کا عندیہ دیا گیا تھا، اور اب یہ طیارہ انڈین سرزمین پر، وہ بھی مرمت کی حالت میں موجود ہے—گویا مستقبل کا سودا پہلے سے ہی دیدہ عام پر آ چکا ہے۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:

یہ واقعہ بظاہر فنی خرابی کا نتیجہ ہے، مگر سفارتی سطح پر یہ ایک دلچسپ اور نازک مرحلہ ہے۔ ایک طرف انڈیا کو غیر معمولی سیکیورٹی تدابیر اختیار کرنی پڑیں، تو دوسری طرف برطانیہ کو اپنے حساس ترین جنگی اثاثے کی مرمت غیر ملکی سرزمین پر کرنی پڑی۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا دفاعی شراکت داری کی نئی شکل؟ وقت ہی بتائے گا، مگر ایک بات طے ہے—سوشل میڈیا پر اس طیارے کی “او ایل ایکس پالیسی” نے سفارتی نزاکتوں کو مزاح کا تڑکا ضرور لگا دیا ہے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔

VOC/006/230625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں