برطانوی شہزادے ولیم کی جانب سے القدس کو فلسطین کا حصہ قرار دینے پر اسرائیل سیخ پا
القدس(آئی این پی)برطانوی شہزادے ولیم کی جانب سے القدس کو فلسطین کا حصہ قرار دینے پر اسرائیل سیخ پا ہو گیا، برطانوی شہزادے کا موقف حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے، امید ہے شہزادے کے معاونین غلط فہمی کا ازالہ کریں گے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی شہزادہ ولیم کی جانب سے مشرقی بیت المقدس کو اراضی فلسطین کا حصہ قرار دیے جانے پراسرائیل نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے موقف کوحقائق مسخ کرنے کے مترادف قرار دیا۔شہزادہ ولیم 25 جون کو اردن پہنچیں گے جہاں سے وہ فلسطین اور اس کے بعد اسرائیل کا بھی دورہ کریں گے۔ وہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کا بھی دورہ کریں گے۔اسرائیلی کابینہ کے وزیر برائے القدس امور زئیو الکین نے شہزادہ ولیم کی جانب سے مشرقی یروشلم کو اسرائیل کے بجائے فلسطین کا حصہ قرار دیے جانے اور اسی موقف کے تحت دورہ القدس کے پروگرام پرکڑی تنقید کی ہے۔توقع ہے کہ برطانوی شہزادہ 25 جون کو اردن پہنچنے کے بعد مشرقی یروشلم جائیں گے۔ ان کا یہ دورہ3 دن پر محیط ہوگا۔ آخر میں وہ اسرائیلی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔
کنگسٹن شاہی محل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ ولیم پرانے القدس کی تاریخ اور جغرافیے بارے جان کاری کے حصول کی خاطر مقبوضہ فلسطین کا دورہ کریں گے۔اسرائیلی وزیر زئیو الکین کا کہنا ہے کہ یہ بات بے حد افسوسناک ہے کہ برطانیہ شہزادہ ولیمکے دورے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ متحدہ یروشلم اسرائیل کا 3000 سال سے دارالحکومت ہے جب کہ برطانوی شہزادے کا موقف حقائق کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ مجھے امید ہے کہ شہزادے کے معاونین ان کے موقف میں پائی جانے والی غلط فہمی کا ازالہ کریں گے۔