ایران نے امریکہ کو “بھاری تھپڑ” مارا ہے، آیت اللہ خامنہ ای کا جنگ بندی کے بعد پہلا بیان

: عالمی امور ڈیسک
: تہران / ایران

ایران نے امریکہ کو “بھاری تھپڑ” مارا ہے، آیت اللہ خامنہ ای کا جنگ بندی کے بعد پہلا بیان

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکہ کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ “ایران نے امریکہ کو ایک بھاری تھپڑ رسید کیا ہے”۔ یہ بیان حالیہ ایران-اسرائیل جنگ کے بعد امریکہ کے ساتھ عارضی جنگ بندی کے بعد ان کا پہلا باضابطہ ردعمل ہے۔

بی بی سی کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں اعلیٰ عسکری قیادت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنی طاقت، عزم اور خودمختاری کے دفاع میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا، اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ “ہماری سرزمین پر حملہ کرنے والا کوئی بھی محفوظ نہیں”۔

امریکہ پر براہِ راست تنقید

خامنہ ای نے امریکی حملوں کو “قابل نفرت اور جارحانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے فردو، نطنز اور اصفہان پر ہونے والے حملوں کے بعد جوابی کارروائی میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا، اور یہ صرف ایک انتباہ تھا، نہ کہ ہماری پوری طاقت۔

انہوں نے مزید کہا:

> “ہم اپنی فوج، سائنسدانوں اور عوام کے خون کا حساب لینا جانتے ہیں۔ امریکہ یہ نہ سمجھے کہ ہم خاموش رہیں گے۔ یہ جنگ بندی ہماری حکمت ہے، کمزوری نہیں۔”

وی او سی اردو کا تبصرہ:
ایران کی قیادت کی جانب سے ایسے وقت میں یہ سخت بیان سامنے آنا، جب مشرق وسطیٰ میں عارضی سکون کی کیفیت ہے، اس بات کی علامت ہے کہ کشیدگی کی اصل آگ بجھی نہیں، فقط راکھ تلے دبی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کا یہ موقف آئندہ سفارتی کوششوں کے لیے ایک نئی آزمائش بن سکتا ہے، خاص طور پر امریکہ کے لیے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر بی بی سی سمیت معتبر عالمی ذرائع کی رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ موجودہ صورت حال میں کسی بھی وقت پیش رفت یا پالیسی تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/002/270625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں