ایران مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مزید کوئی قدم نہ اٹھائے: جرمنی، برطانیہ اور فرانس
: یورپ ڈیسک
: برسلز / لندن / پیرس
ایران مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مزید کوئی قدم نہ اٹھائے: جرمنی، برطانیہ اور فرانس
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک مشترکہ بیان میں ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی پیدا کرنے سے گریز کرے اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کسی بھی کوشش کو ترک کرے۔
بیان میں برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے واضح کیا کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کی حمایت کرتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ایران کو جوہری صلاحیت سے روکنے کے عزم پر قائم ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے:
> “ہم مسلسل یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔”
رہنماؤں نے ایران پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر بامقصد مذاکرات میں شامل ہو اور ایسے معاہدے تک پہنچے جو اس کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات کو دور کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر آمادہ ہیں۔
بیان میں امریکی فضائی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا:
> “ہمارا مقصد واضح ہے—ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور خطے میں امن کو ممکن بنانا۔”
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
یورپی اتحاد کی یہ تازہ اپیل اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ایران پر بڑھتی بین الاقوامی تنقید کے باوجود خطے میں طاقت کے توازن کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا کے حالیہ حملوں کے بعد خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو چکے ہیں، اور ایران کے ممکنہ ردعمل سے عالمی سطح پر سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ یورپ کی یہ اپیل امن کے لیے ہے، مگر اصل سوال یہی ہے: کیا ایران اس مطالبے کو محض مغرب کی مداخلت سمجھے گا یا مذاکرات کی میز پر لوٹے گا؟
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/005/230625






