ایرانی تنصیبات کو مٹا ڈالا … غزہ معاہدہ بہت قریب ہے : صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اجلاس میں امریکہ کا جارحانہ مؤقف، ایران کو دوبارہ جوہری طاقت بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی

: نارتھ امریکہ ڈیسک
: دی ہیگ / نیدرلینڈز

ایرانی تنصیبات کو مٹا ڈالا … غزہ معاہدہ بہت قریب ہے : صدر ڈونلڈ ٹرمپ
نیٹو اجلاس میں امریکہ کا جارحانہ مؤقف، ایران کو دوبارہ جوہری طاقت بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاہائے میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روتے سے ملاقات کے دوران ایک دھواں دار پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ “ایرانی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں”۔ صدر ٹرمپ کے بقول ایران پر حالیہ امریکی حملے نے جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ہیروشیما اور ناگاساکی میں ہوا تھا۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کی بحالی کی کوشش کرتا ہے تو “امریکہ دوبارہ بمباری کرے گا”۔ ان کے بقول، امریکی ٹوم ہاک میزائلوں کی مدد سے فردو کی جوہری تنصیب سمیت تمام حساس تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔

میڈیا پر تنقید اور انٹیلی جنس پر عدم اعتماد

صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “بعض ذرائع حملے کی اہمیت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں”۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا:
“انہیں واقعی کچھ معلوم نہیں”۔

یہ ردعمل اس وقت آیا جب ابتدائی انٹیلی جنس تجزیے میں کہا گیا کہ امریکی حملے نے ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا بلکہ چند ماہ کی تاخیر ضرور ڈالی ہے۔

غزہ معاہدہ قریب ہے

صدر ٹرمپ نے ایک اور چونکا دینے والا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ “غزہ کی پٹی میں ایک معاہدہ اب بالکل قریب آ چکا ہے”۔
انہوں نے اس معاہدے کو ایران پر حملے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ “یہ حملہ یرغمالیوں کی رہائی میں مددگار ثابت ہو گا، اور پیش رفت جاری ہے”۔

نیٹو کا نیا چہرہ

صدر ٹرمپ کے مطابق، نیٹو اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور رکن ممالک نے دفاعی اخراجات پانچ فیصد تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عالمی سکیورٹی کو لاحق خطرات، خاص طور پر ایران، روس اور دہشت گردی کے خلاف اتحاد کے عزم کا ثبوت ہے۔

وی او سی اردو کا تبصرہ:
صدر ٹرمپ کا یہ جارحانہ اور بلند آہنگ لہجہ محض ایک سفارتی پالیسی نہیں بلکہ ایک عالمی پیغام ہے — کہ امریکہ اب اپنی پرانی روایتی دُھند میں نہیں بلکہ واضح، جارحانہ اور یکطرفہ مؤقف کے ساتھ دنیا میں قدم رکھ رہا ہے۔
ایران پر حملے کو ہیروشیما سے تشبیہ دینا بین الاقوامی منظرنامے کو نئی آگ میں جھونک سکتا ہے، اور اگر واقعی غزہ معاہدہ اس حملے کے سبب ممکن ہوا تو دنیا ایک نئے سفارتی اصول کا سامنا کرے گی:
“طاقت کی زبان، امن کی ضامن؟”
یہ الفاظ آنے والے وقت میں بہت کچھ واضح کریں گے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، بین الاقوامی ذرائع اور سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیش رفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔

VOC/006/260625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں