“اوول آفس میں ایک خاموش انقلاب”

“اوول آفس میں ایک خاموش انقلاب”

تحریر: بشیر باجوہ
(بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار، وی او سی اردو)

اوول آفس کی خاموش گواہی: ٹرمپ اور عاصم منیر کی ملاقات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
وائٹ ہاؤس کی سفید دیواروں کے بیچ اس روز ایک خاموش مگر تاریخی لمحہ رُونما ہوا۔ وہ لمحہ جس میں نہ توپ چلی، نہ میزائل گرے، مگر سفارتی دنیا کی شطرنج میں ایک مہلک چال چل دی گئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی یہ ملاقات بظاہر رسمی تھی، لیکن اصل میں یہ ایک “خاموش انقلاب” تھا — ایک ایسا سفارتی لمحہ، جس نے نہ صرف خطے کے طاقت کے توازن کو متاثر کیا، بلکہ دنیا کو ایک اشارہ دے دیا: پاکستان اب صرف دیکھنے والا نہیں رہا، اب وہ دکھا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جو کہا وہ معمولی الفاظ نہ تھے: “میں نے عاصم منیر کو جنگ نہ کرنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے بلایا ہے!”
گویا یہ تسلیم کر لیا گیا کہ جنوبی ایشیا میں، جنگ کے بجائے امن کا ایک مرکزی کردار اگر کوئی ہے تو وہ راولپنڈی کا جنرل ہیڈکوارٹر ہے۔ نہ بھارت کی معاندانہ ہٹ دھرمی، نہ عالمی میڈیا کی جانبداری — اس روز میدان میں صرف پاکستان کی تدبیر بولی۔

صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات ایسے وقت پر ہوئی جب ایران اور اسرائیل کی کشیدگی دنیا کو ایک اور عالمگیر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کر چکی ہے۔ اسرائیلی لڑاکا طیارے ایران کی فضاؤں میں گونج رہے ہیں، اور تہران سے بھی مزاحمتی پیغام عالمی فضا میں لرز رہا ہے۔

ایسے میں پاکستان، جو بظاہر اس جنگ کا فریق نہیں، اچانک منظرنامے کے مرکز میں آ گیا — اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔

یہ ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، بلکہ اب اسے ایک ممکنہ “پُل” کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ وہ پُل، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطہ بنا سکتا ہے؛ جو اسرائیل کے جارحانہ عزائم اور مشرقِ وسطیٰ کے امن کے درمیان دیوار بن سکتا ہے۔

خواجہ آصف کا بیان اسی حکمتِ عملی کی تائید کرتا ہے: “یہ ملاقات پاکستان-امریکہ تعلقات کا سب سے اہم موڑ ہے۔”

یقیناً یہ اتفاقیہ نہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو مئی میں ایران کے دورے پر بھی گئے، اور اب واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملے، بیک وقت تہران اور اوول آفس دونوں کی زبان سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا یہ سفارتی توازن پاکستان کو نیا کردار دے سکتا ہے؟
کیا پاکستان عالمی قوتوں کو ایک میز پر لا سکتا ہے؟

اس کا جواب ہم آنے والے دنوں میں دیکھیں گے، مگر ایک بات واضح ہے: پاکستان نے ایک بار پھر اپنی خاموش طاقت سے عالمی بساط پر چال چل دی ہے۔

یہ ملاقات اس وقت اور بھی معنی خیز ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت، جو ہر فورم پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرتا رہا، خود ایک محدود جنگ کے بعد خاموش بیٹھا ہے۔ جبکہ پاکستان کے سپہ سالار، واشنگٹن کے دروازے پر امن کا پیغام لیے کھڑے ہیں۔

عالمی تاریخ میں ایسے لمحے بار بار نہیں آتے۔
یہ لمحہ پاکستان کے لیے ایک موقع بھی ہے، ایک امتحان بھی۔
امن کی طرف بڑھنے والا ہر قدم تاریخ میں ثبت ہوتا ہے — بشرطیکہ وہ خلوص اور دانائی سے اٹھایا جائے۔

——-

وی او سی اردو کا تبصرہ:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات عالمی سیاست میں پاکستان کی بدلتی ہوئی حیثیت کا آئینہ ہے۔ یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ کی ممکنہ جنگ میں پاکستان کے ممکنہ کردار کو اجاگر کرتی ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں توازنِ طاقت کے نئے رجحانات کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر پاکستان نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا، تو وہ دوبارہ عالمی سفارتی افق پر ایک قابلِ ذکر قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k

ڈسکلیمر:
یہ تجزیاتی کالم عالمی ذرائع اور واشنگٹن میں موجود معتبر سیاسی و سفارتی ذرائع کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عوامی آگاہی اور رائے عامہ کی تشکیل ہے، جس میں مصنف کی ذاتی رائے شامل ہو سکتی ہے۔
VOC/008/200625

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں