انقرہ، امریکی سفارتخانے کے باہر فائرنگ

گزشتہ روز ترکی میں روسی سفیر آندرے کارلوف کے قتل کے بعد ایک اور بڑا واقعہ ترک دارالحکومت انقرہ میں امریکی سفارتخانے کے باہر فائرنگ کا پیش آیا ہے جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے طور پر امریکا نے سفارتخانے سمیت ترکی میں اپنے تمام مشن آفس تاحکم ثانی بند کردیے ہیں، ادھر ایران نے بھی ترکی میں سفارتی مراکز بند کردیے ہیں۔
ترکی میں ایرانی سفارتخانے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کے تناظر میں سفارتی مراکز بند کیے جا رہے ہیں۔ نیز روسی سفیر آندرے کارلوف کے قتل کی تحقیقات کے لیے روسی تفتیش کار انقرہ پہنچ گئے ہیں۔ روسی صدر نے اندرون ملک اور دنیا بھر میں روسی سفارتخانوں کی سیکیورٹی بڑھانے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ امر چشم کشا ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے ہی پھیلائے ہوئے جال میں اب بری طرح پھنس چکی ہیں، جس دہشت گردی کے خلاف سپر پاورز مشرق وسطیٰ اور تیسری دنیا کے امن کے درپے تھے، اس کا دائرہ کار اب خود ان کے ممالک تک پہنچ گیا ہے۔ دہشتگردی کے اس عفریت نے عالمی طاقتوں کے حواس باختہ کردیے ہیں۔ صدر پوتن کا کہنا ہے کہ روسی سفیر پر حملے کا مقصد دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھانا اور شام میں امن بحالی کی کوشش کو نقصان پہنچانا ہے۔
واضح رہے کہ ماسکو میں شام کے حوالے سے روس، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ اجلاس میں امن مذاکرات جاری رکھنے اور جنگ بندی کے دورانیے کو بڑھانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روس، ترکی اور ایران شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان ثالث کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہیں۔ عالمی سازشوں کے تحت حالیہ دہشت گردانہ حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہر پہلو پر غور کرنا ہوگا۔
دوسری جانب جرمن دارالحکومت برلن میں کرسمس مارکیٹ میں ٹرک حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہوگئی ہے، نیز پولیس نے حملے کے الزام میں گرفتار پاکستانی نوجوان نوید بلوچ کو رہا کردیا ہے۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کی فیلڈ میں مہارت رکھنے والے ملک میں نہایت فرسودگی کے ساتھ دہشت گردی کے اس واقعے میں پاکستانی شخص کو ملوث کیا گیا، جب کہ بقول جرمن وزیر داخلہ گرفتار مشتبہ شخص پاکستان سے آیا تھا اور اس نے پناہ کے لیے درخواست دے رکھی تھی، تاہم وہ مشتبہ دہشت گردوں کے ڈیٹا بیس میں شامل نہیں تھا۔ پھر آخر کیوں جرمن انتظامیہ کے ذہن میں پہلا شک ایک پاکستانی پر گزرا؟ دنیا میں پاکستان کے امیج کی پرواہ نہ کرنے والے پاکستانی قائدین کی نگاہیں اس واقعے کے بعد کھل جانی چاہئیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں