انضمام ‘ سلمان بٹ کو گلے لگانے کے لیے تیار
لاہور(نیوز وی او سی آن لائن ) اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ سلمان بٹ کے سارے گناہ معاف ہو گئے، چیف سلیکٹر انضمام الحق بانہیں پھیلائے انھیں گلے لگانے کیلیے تیار ہیںَ
اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن لاہور (سجال ) کی میزبانی میں نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں گزشتہ روز انضمام الحق کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا گیا، اس میں سلمان بٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیف سلیکٹر نے کہا کہ بیٹسمین کیلیے 5سال بعد کم بیک کرنا آسان نہیں ہوتا، ضروری ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر اپنی فارم حاصل کرے، سلمان نے ایسا کر لیا، سعید اجمل کو ایکشن کلیئر ہونے پر فوری کھلا دیا گیا تھا،میرے خیال میں یہ ان کے ساتھ غیرمنصفانہ سلوک تھا،ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر آتے تو شاید کیریئر تھوڑا طویل ہوجاتا، کامران اکمل نے ملکی سطح کے مقابلوں میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی لیکن سرفراز احمد تسلسل کے ساتھ پرفارم کررہے ہیں، ان کی موجودگی میں کامران کی ٹیم کمبی نیشن میں جگہ نہیں بنی۔
چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ ماضی میں راشد لطیف اور معین خان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا رہا، بعض اوقات پرفارمنس کے ساتھ کھلاڑی کی قسمت کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے، اب سلمان اور کامران دونوں زیرغور آئیں گے۔
سابق کپتان نے کہا کہ مصباح الحق کی خدمات سے کسی کو انکار نہیں،انھوں نے ٹیسٹ ٹیم کو عالمی رینکنگ میں نمبر ون بنوایا لیکن ان کی قیادت کے بارے میں فیصلہ چیئر مین پی سی بی کی صوابدید ہے، یونس خان کی بھی بڑی خدمات اور وہ 10ہزار رنز بنانے والے پہلے پاکستانی کا اعزاز پانے کے قریب ہیں، ان سے خود مل کر بات کروں گا، دنیا بھر میں ہوتا ہے کہ بڑے کھلاڑی بورڈ کو حکمت عملی بتا دیتے ہیں جس سے انھیں احترام سے رخصت کرنے میں مدد ملتی ہے، ہمیں بھی ایسی پالیسی بنانی چاہیے، پی سی بی حکام بھی یہی چاہتے ہیں، مصباح الحق اور یونس خان بڑے کھلاڑی ہیں، دونوں کا متبادل فوری طور پر میسر نہیں ہو سکتا، پی ایس ایل کے بعد تربیتی کیمپ لگا کر ڈومیسٹک کرکٹ کے پرفارمرزکو انٹرنیشنل معیار کیلیے تیار کرینگے، بیٹسمینوں کے سیزن میں مجموعی رنز ہی نہیں اسٹرائیک ریٹ بھی دیکھوں گا۔
کوچنگ اور سلیکشن میں سے کسی ایک کو زیادہ موزوں سمجھنے کے سوال پر انضمام نے کہا کہ وہ ساری عمر گراؤنڈ میں رہے، افغان ٹیم کے ساتھ بطور کوچ کام کیا، وہ تجربہ اچھا رہا، کام تھوڑا مختلف مگر سلیکشن کیلیے بھی گراؤنڈ کا تجربہ کام آتا ہے،ٹورز کے دوران ٹیم مینجمنٹ کی رائے اہمیت رکھتی ہے لیکن حتمی فیصلہ خود ہی سوچ سمجھ کر میرٹ پر کرتا ہوں، ناقدین کہتے ہیں کہ آپریشن کلین اپ کردو، ساتھ ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھے کھلاڑی نہ ہونے کی بات بھی کرتے ہیں، سب کو نکال دوں تو شامل کس کو کروں،دیکھنا یہ ہے کہ دورئہ آسٹریلیا میں کیا مسائل تھے، اسٹرائیک ریٹ کم ہونے کی وجہ سے پریشانی ہوئی، آج کل 300رنز آسانی سے بن رہے ہیں، منتخب کرتے ہوئے بیٹسمینوں کے سیزن میں مجموعی رنز ہی نہیں اسٹرائیک ریٹ کو بھی دیکھوں گا،اس ضمن میں ریجنل کوچز سے بھی بات کی ہے، مستقبل کیلیے مشکل فیصلے بھی کرنا پڑے تو گریز نہیں کروں گا۔
چیف سلیکٹر نے کہا کہ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں فرق کی بات ہوتی ہے، پی ایس ایل کے بعد ملکی سطح کے مقابلوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کا تربیتی کیمپ لگائیں گے،کوشش ہوگی کہ ان میں چند کی فارم اور فٹنس کو عالمی معیار کے مطابق کردیں، مصروف شیڈول کی وجہ سے قومی ٹیموں میں شامل کرکٹرز کی فٹنس اور تکنیک پر کام کرنے کا موقع نہیں مل سکا،وقت ملے گا تو اس پر توجہ ضرور دیں گے۔






