امریکی وزیر خارجہ کے 4 عرب ممالک کے ساتھ مذاکرات
سعودی عرب کے ساتھ سیکیورٹی، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے امور پر امریکا کی مضبوط شراکت ہے ، شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد ریکس ٹلرسن کی گفتگو
ریاض میں عرب امارات، بحرین، مصر اور سعودی وزرائے خارجہ سے بھی تبادلہ خیال، قطر قابل بھروسہ نہیں، دہشتگردی کیخلاف امریکا سے اس کا معاہدہ ناکافی ہے ، عرب ممالک ریاض ( فارن ڈیسک) قطر تنازع کا حل تلاش کرنے کیلئے امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کی کوششیں جاری ہیں، بدھ کو انہوں نے دوحہ سے ریاض پہنچ کر عرب امارات، بحرین، مصر اور سعودی وزرائے خارجہ کے ساتھ اہم مذاکرات کیے ، انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے تفصیلی ملاقات کی، اس کے بعد صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ریکس ٹلرسن نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے مابین سیکیورٹی، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے امور پر مضبوط شراکت ہے ، دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ کی ریاض امد سے چند گھنٹے قبل جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں چاروں عرب ممالک نے ایک روز قبل دوحہ میں دہشت گردی کیخلاف امریکا اور قطر کے مابین طے پانے والے معاہدے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کیخلاف امریکا کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں ، لیکن قطر قابل بھروسہ نہیں ہے ، اس نے کبھی اپنے وعدے پورے نہیں کئے ، انسداد دہشت گردی پر امریکا کے ساتھ اس کا تازہ معاہدہ ناکافی ہے ،بیان کے مطابق جب تک قطر 13 شرائط پر وسیع پیمانے پر عمل درآمد نہیں کرتا اس وقت تک اس کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، واضح رہے کہ دوحہ اور واشنگٹن نے منگل کو اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ دونوں ممالک دہشت گردوں کو ملنے والی مالی امداد کو روکنے کیلیے مشترکہ اقدامات کریں گے ، قطر کا بائیکاٹ کرنے والی چاروں عرب ریاستوں نے واضح کر دیا ہے کہ دوحہ اور واشنگٹن کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مالی تعاون روکنے کے معاہدے کے باوجود وہ قطر کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے ، واضح رہے کہ چاروں عرب ریاستیں قطر پر یہ الزام عائد کر چکی ہیں کہ وہ خطے میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے ، تاہم قطر ان الزامات کی تردید کر چکا ہے ، چاروں عرب ممالک نے دو ہفتے قبل قطر کو چند مطالبات کی فہرست دی تھی، ان مطالبات میں الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کی بندش، ترک فوجی اڈے کا خاتمہ، اخوان المسلمون کے ساتھ تعلق ختم کرنا اور ایران کے ساتھ روابط میں کمی کا مطالبہ بھی شامل تھا ، قطر ان مطالبات کو ماننے سے انکار کر چکا ہے ، عرب ممالک نے اسے قطر کا منفی ردِ عمل قرار دیتے ہوئے اس کیخلاف مزید سیاسی، اقتصادی اور قانونی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ذرائع کے مطابق قطر اس سے پہلے اسلامی گروہوں کی امداد کا اعتراف کر چکا ہے جنہیں بعد میں دہشت گرد قرار دے دیا گیا تھا ۔ ان میں اخوان المسلمون اور حماس شامل ہیں ۔ لیکن وہ القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کی امداد کے الزام کو بے بنیاد قرار دے چکا ہے ۔






