امریکی عدالت کا تاریخی فیصلہ: “ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نسلی بنیادوں پر گرفتاریاں نہیں کر سکتا”
: نارتھ امریکہ ڈیسک
: لاس اینجلس، امریکہ
امریکی عدالت کا تاریخی فیصلہ: “ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نسلی بنیادوں پر گرفتاریاں نہیں کر سکتا”
امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کو حکم دیا ہے کہ وہ لاس اینجلس میں امیگریشن چھاپوں کے دوران بغیر مناسب شواہد کے گرفتاریاں بند کرے، اور افراد کو صرف نسل، زبان یا پیشے کی بنیاد پر حراست میں لینا غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے بارہا ایسے افراد کو نشانہ بنایا گیا جو نہ تو مشتبہ تھے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی قانونی ثبوت موجود تھا، بلکہ انہیں صرف ان کے ظاہری حلیے، بولی جانے والی زبان یا پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔
وفاقی جج نے واضح کیا کہ “یہ عمل امریکی آئین کے چوتھے ترمیمی حق کے خلاف ہے، جو شہریوں کو بلاوجہ گرفتاری اور تلاشی سے محفوظ رکھتا ہے”۔ جج نے DHS کو فوری طور پر یہ طریقہ کار بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے حقوق کے حوالے سے ماحول پہلے ہی کشیدہ ہے۔ خاص طور پر کیلیفورنیا میں، جہاں میکسیکن اور لاطینی امریکی پس منظر رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے، یہ اقدام ایک بڑی قانونی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
امریکی عدالتی نظام کا یہ فیصلہ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ “مشکوک چہرے” کے پیچھے چھپے سچ کو دیکھنے کا وقت آ چکا ہے۔ صرف زبان یا رنگ کو جرم کی بنیاد بنانا عدل کی روح کے خلاف ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ امریکہ میں امیگریشن پالیسیوں کے ازسرنو جائزے کی راہ ہموار کرے گا۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر امریکی عدالت کے فیصلے اور مستند بین الاقوامی ذرائع پر مبنی ہے۔ قانونی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/007/120725
7






