اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں ایران کے 30 اعلیٰ فوجی و انٹیلیجنس جرنیل شہید، خاتم الانبیاءؐ ہیڈکوارٹر کے کمانڈر جنرل علی شادمانی بھی جام شہادت نوش کر گئے
👇👇👇🇵🇰🤝🇨🇦
Vo
: مشرقِ وسطیٰ ڈیسک
: تہران / ایران
اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں ایران کے 30 اعلیٰ فوجی و انٹیلیجنس جرنیل شہید، خاتم الانبیاءؐ ہیڈکوارٹر کے کمانڈر جنرل علی شادمانی بھی جام شہادت نوش کر گئے
ایران میں سرکاری ذرائع اور معتبر رپورٹنگ نیٹ ورکس کے مطابق، اسرائیل کے ساتھ جاری 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی مسلح افواج، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب (IRGC)، بسیج فورسز، اور انٹیلیجنس اداروں کے کم از کم 30 اعلیٰ افسران شہید ہو چکے ہیں۔
یہ تمام افراد ایران کی عسکری، دفاعی، انٹیلیجنس اور فضائی دفاعی ساخت کے کلیدی عہدوں پر فائز تھے۔ شہید ہونے والے ان جرنیلوں میں سے کئی کا تعلق ایرو اسپیس، یو اے وی کمانڈ، سائبر انٹیلیجنس اور فلسطین ڈیسک جیسے حساس شعبوں سے تھا۔
شہداء کی نمایاں فہرست میں شامل ہیں:
لیفٹیننٹ جنرل حسین سلامی (IRGC کمانڈر انچیف)
لیفٹیننٹ جنرل محمد حسین باقری (چیف آف جنرل اسٹاف)
لیفٹیننٹ جنرل غلام علی راشد (خاتم الانبیاءؐ مرکزی ہیڈکوارٹر)
میجر جنرل محمد کاظمی (IRGC انٹیلیجنس تنظیم کے سربراہ)
بریگیڈیئر جنرل داؤد شیخیان (ایئر ڈیفنس کمانڈر)
بریگیڈیئر جنرل محمد باقر طاہر پور (یو اے وی کمانڈر)
بریگیڈیئر جنرل مسعود طیب، جواد جرسارا، محمد سعید ایزادی (قدس فورس)
جنرل عامر مظفرنیا (سائنس و دفاعی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ)
جنرل علیرضا لطفی (پولیس انٹیلیجنس SAFA)
بریگیڈیئر جنرل عباس نوری (لاگسٹک کمانڈر، SW ہیڈکوارٹر)
(مکمل فہرست میں 30 سے زائد اعلیٰ افسران شامل ہیں)
ایرانی حکومت کی تصدیق: اس ضمن میں ایرانی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ “خاتم الانبیاءؐ ہیڈکوارٹر” کے مرکزی کمانڈر جنرل علی شادمانی جو پچھلے ہفتے اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے بلند رتبے پر فائز ہو چکے ہیں۔
ان کی شہادت ایران کے لیے ایک بڑا دھچکہ تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ ایرانی عسکری حکمت عملی کے سب سے مرکزی دماغوں میں شمار ہوتے تھے۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
یہ سانحہ صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کی تزویراتی صورتحال کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ایران کے سینئر دفاعی دماغوں کا بیک وقت شہید ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کی جنگی کارروائیاں ایران کی عسکری مرکزیت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
جنرل علی شادمانی جیسے رہنما کی شہادت اس جنگ کو جذباتی و قومی سطح پر ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتی ہے۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایران کی جوابی حکمت عملی اب مکمل طور پر دفاع سے ہٹ کر “انقلابی انتقام” کے فلسفے پر استوار کی جا سکتی ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، مقامی ذرائع یا سرکاری بیانات پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/009/260625






