کالم,انٹرویو

اسد درانی کی کتاب کا ایجنڈہ اور نواز شریف کا بیانیہ ….!

تحریر : یاسر رسول
اس سے پہلے کہ میں لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی کی کتاب پر تبصرہ کروں، پہلے میں آپ کو اسد درانی کے بارے میں بتانا چاہوں گا کہ یہ شخص ہے کون اور اس کی فوج دشمنی کے پیچهے اصل وجوہات کیا ہیں.
لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی بینظیر بهٹو کے دور حکومت میں بطور ڈی جی آئی ایس آئی تهے، اس وقت آرمی چیف مرزا اسلم بیگ تهے. اسد درانی نے آرمی چیف کو بائے پاس کرکے اقتدار نواز شریف کو دلوانے کا منصوبہ بنایا کیونکہ وہ بینظیر کو پسند نہیں کرتے تهے اور نواز شریف کو وہ شروع سے ہی پسند کرتے تهے. اس ذاتی پسند ناپسند کے بناء پر انہوں نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹهایا.
اسد درانی کے اس منصوبے کے مطابق اس وقت کی سیاسی و مذهبی جماعتوں کا اتحاد (آئی جی آئی) تشکیل دیا گیا اور ان سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو بطور رشوت باقائدہ پیسوں سے بهرے بریف کیس دیے گئے، یہ پیسے اسد درانی نے خود بانٹے، آرمی چیف سے بهی چهپاکر یہ کام کیا، نواز شریف کو بهی ان پیسوں سے بڑی تگڑی رقم بریف کیس میں بهر کر ملی. بعد میں جب اسد درانی پر کورٹ میں کیس چلا تو اس نے پیسے بانٹنے کا الزام بهی اس وقت کے آرمی چیف پر لگادیا مگر اس کا ایک بهی ثبوت دے نہیں سکا.

پیسے بانٹنے کا مقصد بینظیر حکومت کے خلاف اتحاد بناکر نواز شریف کو ملک کا حکمران بنانا تها.
جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کو اس معاملے کی خبر ملی کہ آپ کا ڈی جی آپ کو بائے پاس کرتے ہوئے یہ کام کرتا پهر رہا ہے تو بطور آرمی چیف اسلم بیگ نے فورا اسد درانی کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے فارغ کرکے جی ایچ کیو میں بٹهادیا. لیکن اسد درانی پهر بهی باز نہیں آیا اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے نواز شریف اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی مدد کرتا رہا تو پهر آرمی چیف اسلم بیگ نے اسے فوج سے ہی کک آوٹ کردیا یعنی زبردستی فوج سے نکال باہر کیا.

وہ دن اور آج کا دن اسد درانی کے دل میں فوج سے نفرت اور نواز شریف سے مزید محبت پیدا ہوئی
لیکن چونکہ وہ ایک جنرل رہ چکا تها اس لیے اس کے پاس کئی اہم ملکی راز بهی تهے اور وہ حلف لے چکا تها کہ مرتے دم تک ملکی راز کسی کو نہیں بتائے گا، وہ اس حلف پر قائم رہا لیکن یہ جو پانامہ اسکینڈل آیا اور اس کا قائد نواز شریف بری طرح بےنقاب ہوا تو پهر نواز شریف نے اپنی مدد کے لیے درانی کو سابق را چیف کے زریعے استعمال کیا اور اس سے کتاب لکهوائے جس میں کهل کر پاک فوج کو بدنام کیا گیا.
اسد درانی کی کتاب "اسپائی کرونیکز -آئی ایس آئی، را” بنیادی طور پر ایک انٹرویو ہے جس کو ہندوستانی را نے نواز شریف کو بچانے کے لیے آخری پتے کے طور پر کتابی شکل میں پهینکا ہے تاکہ اس سے نواز شریف کے بیانیے "فوج دہشت گردوں کی مدد کرتی ہے” کو تقویت دی جائے اور

پاک فوج کو عوام کی نظروں میں مشکوک بنایا جائے
تاکہ پاک فوج ٹوٹ پهوٹ کا شکار ہوکر کمزور ہوجائے اور یوں پاکستان کو بهی عراق شام اور افغانستان کی طرح یہود و ہنود آسانی سے تباہ و برباد کرسکیں.
یاد رہے اسد درانی سے پہلے یہود و ہنود منظور پشین جیسوں کو بهی اسی بیانیے کے ساتهہ آگے لائے تهے جو نواز شریف نے ڈان لیکس کے زریعے پهیلایا تها.
ڈان لیکس میں تها کہ "فوج دہشت گردوں کی مدد کرتی ہے” اور منظور پشتین کے نعرے بهی یہی تهے کہ "یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچهے وردی ہے” اور اب اسد درانی کی کتاب کا نچوڑ بهی یہی ہے کہ "فوج اسامہ بن لادن جیسے دہشت گردوں کو بچاتی رہی ہے”.

عقلمندوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے !
اوپر بیان کیے تینوں بیانیوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں بیانیے ایک ہی سلسے کی کڑیاں ہیں اور ان بیانیوں کو پهیلانے والا نواز شریف کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے، جس نے کهل کر پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف اعلان جنگ کررکها ہے
اور اس کی امداد میں اسرائیلی موساد، امریکی سی آئی اے اور بهارتی ہر روز نئے پتے پهینک رہی ہیں…!
جنرل رٹائرڈ اسد درانی نے بنیادی طور پر پاک فوج پر مندرجہ ذیل الزامات لگائے ہیں.

1. فوج نے خود القائدہ سربراہ "اسامہ بن لادن” کو ایبٹ آباد میں چهپاکے رکها تها.

2. جنرل کیانی نے بطور آرمی چیف اسامہ بن لادن کو 50 ملین ڈالرز کی ڈیل کرکے امریکہ کو بیچا.

3. اسامہ کو زندہ امریکہ کے حوالے کیا گیا تها، وہ مرا نہیں تها اس بارے امریکی جهوٹ بولتے ہیں کہ اسے مارا گیا اور لاش سمندر میں پهینکی گئی. ڈیل کے تحت اسے زندہ امریکہ کے حوالے کیا گیا

4. جنرل کیانی امریکی ایجنٹ تهے.

5. جنرل مشرف امریکہ اور اسرائیل دونوں کے ایجنٹ تهے.

6. آئی ایس آئی کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا پتا تها. امریکہ کو اسامہ کی موجودگی کا پتا دینے والا آئی ایس آئی کا برگیڈیئر عثمان خالد تها جس نے بدلے میں امریکہ سے امریکی شہریت اور کئی ملین ڈالرز بطور انعام مطالبہ کیا تها.

6. پاک فوج کی لیڈرشپ لالچی اور مفادپرست ہے.
سچ تو یہ ہے کہ اسد درانی نے انتہائی بهونڈے اور گهٹیا الزامات لگائے ہیں. الزامات کی فہرست لمبی ہے مگر اہم نقات یہی ہیں. آپ خود سوچیں ایک محب وطن پاکستانی کس طرح اپنی ہی فوج اور آئی ایس آئی پر اتنے گهٹیا الزامات لگا سکتا ہے؟
صاف ظاہر ہے کہ جس طرح ملالہ کی کتاب ملالہ نے خود نہیں لکهی تهی، ٹهیک اسی طرح درانی نے بهی کتاب خود نہیں لکهی، ملالہ کی کتاب امریکی سی آئی اے نے لکهی اور درانی کی کتاب ہندوستانی را نے.دونوں اسلام اور پاکستان کے اولین دشمن ہیں مگر درانی نے اپنا ضمیر بیچ کر ثابت کردیا کہ یہ بےغیرت انسان نواز شریف کی محبت میں اندها ہوچکا ہے اور نواز شریف کی طرح ہی پاک فوج اور آئی ایس آئی دشمنی پر اتر آیا ہے.
یاد رہے کچهہ ہفتے پہلے نواز شریف نے اداروں کو کهل کر دهمکی دی تهی کہ اگر مجهے چهیڑا گیا تو بہت سے ملکی راز اگل دوں گا. اسد درانی کے نئے الزامات وہی من گهڑت راز ہیں جو انہوں نے خود ہی تخلیق کیے ہیں اور خود ہی پاک فوج پر لگادیے تاکہ یہود و ہنود کو یہ باور کروایا جائے کہ حضور پاکستان میں آپ کو نواز شریف سے بڑا کوئی غدار نہیں مل سکتا اس لیے میاں سانپ کو سپورٹ کیجیے اور دوبارہ حکومت دلوائیے تاکہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کو ختم کرنے میں آپ کا ساتهہ دیا جائے. پاک فوج اور آئی ایس آئی ختم ہوجائے تو پهر پاکستان کو شام و عراق بنانے سے کوئی نہیں روک سکے گا.
آجکل امریکی خود بهی حیران ہیں کہ جس اسامہ کی موجودگی اور حوالگی کا ثبوت خود ان کے پاس بهی نہیں ہے، اس کا الزام بهی نواز شریف اسد درانی کے زریعے پاک فوج پر لگا گیا ہے.
واہ میاں سانپ آپ نے ثابت کردیا کہ آپ غداروں کی فہرست میں میر جعفر اور میر صادق سے بهی آگے نکل چکے ہیں.
اب تو نواز شریف کی لاٹری کهلنے والی ہے، اب یہود و ہنود اور ہندو سب مل کر میاں سانپ کو سپورٹ کریں گے کیونکہ یہی غدار اب کهل کر پاک فوج پر الزامات لگواکر یہود وہنود کے ایجنڈے کے لیے بہترین کام کر رہا ہے.
ان شاء اللہ اگلی پوسٹ میں اسد درانی کی کتاب کا اصل ایجنڈے اور اس کے پیچهے چهپے یہود و ہنود کے خفیہ مقاصد پر بات کروں گا. آرمی چیف جنرل باجوہ نے اسد درانی کے الزامات پر اسے جی ایچ کیو طلب کیا ہوا ہے. درانی کا دماغ درست کیا جائے گا. فلحال اس نئے فتنے کو پهیلنے سے روکنے کے لیے پاکستانی عوام تک صحیح معلومات پہنچانا میرا اور آپ کا اولین فرض ہے. یہ انفارمیشن وار کا دور ہے، دشمن اسی طرح پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف عوام کو اکسانے کے لیے نئے پتے پهینکتا رہتا ہے.

اسد درانی کی اصلیت عوام تک پہنچانے کے لیے اس پوسٹ کو ہر صورت لازمی شیئر کیجیے.
آپ کے شیئر نہ کرنے سے پاک فوج بدنام ہوگی اور عوام دشمن کے اس نئے فتنے میں مبتلا ہوکر اپنی ہی فوج اور آئی ایس آئی کو مشکوک سمجهنے لگیں گے.
اگر فوج سے محبت کرتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ لائک، کمنٹ اور شیئر کیجیے.
پاکستان آرمی زندہ آباد
آئی ایس آئی زندہ آباد

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button