آیت اللہ خامنہ ای کے بعد کی قیادت: ایران نے منصوبہ بندی تیز کر دی
: عالمی امور ڈیسک
: تہران / ایران
آیت اللہ خامنہ ای کے بعد کی قیادت: ایران نے منصوبہ بندی تیز کر دی
ایرانی قیادت نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد کی قیادت کے منصوبوں کو تیز کر دیا ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے پس منظر میں۔
(ماخذ: رائٹرز)
ذرائع کے مطابق ماہرینِ قیادت کی اسمبلی (Assembly of Experts) کی ایک تین رکنی خفیہ کمیٹی پچھلے دو سال سے قیادت کی منتقلی پر کام کر رہی ہے، لیکن حالیہ اسرائیلی حملوں اور سپریم لیڈر کے قتل کی اطلاعات کے بعد اس عمل میں غیر معمولی تیزی آ چکی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای اس وقت ایک خفیہ مقام پر ایلیٹ سکیورٹی فورسز کے زیرِ تحفظ موجود ہیں، اور انہیں کمیٹی کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
مستقبل کی قیادت کے لیے دو نمایاں نام زیرِ غور ہیں:
1. مجتبیٰ خامنہ ای – آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے، جو سخت گیر حلقوں کی اولین ترجیح سمجھے جاتے ہیں۔
2. حسن خمینی – امام خمینی کے نواسے، جنہیں نسبتاً معتدل اور قابلِ قبول چہرہ تصور کیا جاتا ہے، خاص طور پر علما اور عوام کے درمیان۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو قیادت کی منتقلی کے فیصلے کو فوری اور خاموشی سے نافذ کیا جا سکتا ہے، تاکہ ملکی نظام میں خلل نہ آئے۔
—
وی او سی اردو کا تبصرہ:
ایران کی قیادت کی منتقلی کوئی معمولی امر نہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے چار دہائیوں پر مشتمل دور میں نظامِ ولایت فقیہ کو مستحکم کیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی صورت میں ایک تسلسل قائم رکھا جا سکتا ہے، لیکن حسن خمینی جیسے اعتدال پسند کے انتخاب سے داخلی استحکام اور بیرونی دنیا کے ساتھ مصالحت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم اسرائیلی خطرات اور امریکی دباو کے باعث فیصلہ اب نظریاتی نہیں، حفاظتی بن چکا ہے۔
—
وی او سی اردو
🌐 www.newsvoc.com
📲 واٹس ایپ چینل: https://whatsapp.com/channel/0029VaCmBaI84OmAfXL45G1k
ڈسکلیمر:
یہ خبر ابتدائی معلومات، بین الاقوامی ذرائع یا خفیہ رپورٹس پر مبنی ہے۔ تفتیشی یا ادارتی پیشرفت کی بنیاد پر معلومات میں تبدیلی ممکن ہے۔
VOC/018/230625






